Justuju Tv جستجو ٹی وی


کلیات منیف اشعر - رختِ زندگی میں خوش آمدید

Saturday, May 2, 2009

نہ جانے کب چلے جائیں یہاں سے







نہ جانے کب چلے جائیں یہاں سے

ہےرشتہ عارضی کون و مکاں سے


بلند تر ہے مقام ان کا بیاں سے

جنہیں نسبت ہے کُوئے لامکاں سے


نشاں چھوڑے ہیں جو نعلینِ پا نے

سمیٹو روشنی اس کہکشاں سے


اٹھاؤں گا میں کیا کشکول اب کے

نہیں پایا ہے کیا اس آستاں سے


دلوں میں وسوسے لازم ہیں لیکن

بچاتا ہے خدا ہی بدگماں سے


جو سجدے ہم بجا لاتے ہیں ان کا

بلاوا آتا رہتا ہے اذاں سے


ہوائیں جب اکیلا چھوڑ بیٹھیں

تو پھر کیا لینا دینا بادباں سے


بچائے برق بے چاری تو کیسے

شراروں کی ٹھنی ہے آشیاں سے


سوائے خود فریبی کچھ نہیں ہے

توقّع آج کل کے پاسباں سے


اگر مقصود ہے کچھ کامرانی

گزرنا تو پڑے گا امتحاں سے


سَکوُتِ لب سے ہی جیتو گے اشعؔر

محبّت ہار جاتی ہے فغاں سے


No comments:

Design & Content Managers

Design & Content Managers
Click for More Justuju Projects