Justuju Tv جستجو ٹی وی


کلیات منیف اشعر - رختِ زندگی میں خوش آمدید

Saturday, May 2, 2009

حیات گو کہ غریبی میں بار گزری ہے






حیات گو کہ غریبی میں بار گزری ہے

مگر بفضلِ خدا پُروقار گزری ہے


شعورِ ذات کی منزل چراغِ رہ کی طرح

رہِ حیات میں حسنِ شعار گزری ہے


یہ کیا عجب ہے کہ جس سے ہیں سارے دکھ منسوب

اسی کی یاد سدا چارہ کار گزری ہے


رہا ہے وعدہ شکن وہ سدا، مگر اپنی

تمام عمر پئے اعتبار گزری ہے


میں اب بھی عالمِ تنہائی کے حصار میں ہوں

اگرچہ وصل کی رُت بار بار گزری ہے


وہ شخص سب کا تعاقب کرے ہے اور اس کی

اک اپنی ذات سے کرتے فرار گزری ہے


لکھو گے کیا شبِ ظلمت کے باب میں اشعؔر

یہاں تو صبحِ بہاراں بھی تار گزری ہے


No comments:

Design & Content Managers

Design & Content Managers
Click for More Justuju Projects